Saturday 28 November 2015

مجاہد و چودھری:کہ دستِ قدرت میں زندگی کی لکیر ہوں میں

برصغیر کی تاریخ میں ۲۲ نومبر؁۲۰۱۵  کا شمار سیاہ ترین  دنوں میں  ہوگا۔ اس روز پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں ایک ظالم حکمراں نے محض اپنے اقتدار کو محفوظ و مامون رکھنے کی خاطر اور اپنے رائے دہندگان کی خوشنودی کیلئے حزب اختلاف کے دو معصوم رہنماؤں علی محمد احسن مجاہد اور صلاح الدین قدیر چوہدری کو دارالحکومت ڈھاکہ کی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور بی این پی کے ان رہنما وں پر ؁۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستان کی حمایت کرنے کا الزام تھا۔ پاکستان کے معمر سیاسی چودھری نثار نے اس جبر استبدادپر اظہار خیال  کرتے ہوئے فرمایا ’’بنگلہ دیش میں پھانسیاں انسانیت کا قتل ہے۔انتقام کی آگ کو اب ٹھنڈا ہونا چاہئے‘‘۔
چودھری نثار جس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی دہائی دے رہے ہیں دراصل شیخ مجیب الرحمٰن ان شعلوں کو بہت پہلے بجھا کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ شیخ مجیب نے جولائی ؁۱۹۷۲میں ایک قانون وضع کیاجس کی رو سے بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں شریک نہ ہونے والےیا اس کی مخالفت کرنےوالےیا پاکستانی فوجیوں کی مدد گاروں کو مجرم قراردیا گیا۔ اس قانون کے تحت ایک لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے ۳۷۴۳۱ افراد عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیئے گئے۔ صرف ۲۸۴۸ کیخلاف مقدمہ قائم ہوا اور ۹۵۲ کو سزا ہو ئی۔ ۲ نومبر؁۱۹۷۳ کو شیخ مجیب نےان تمام قصور واروں کو عام معافی دے کر رہا کر دیا۔  اس  طرح گویا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس باب کو بند کردیا۔  اس کے بعد ؁۱۹۹۶ عوامی لیگ کو حسینہ واجد  کی قیادت میں حکومت کرنے کا موقع ملا  لیکن اسے جنگ آزادی کے جنگی جرائم یاد نہیں آئے۔ ؁۲۰۰۱میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور ؁۲۰۰۴ تا ؁۲۰۰۹ تک جماعت اسلامی بھی اس حکومت میں شامل رہی۔
 افسوس کا پہلو یہ ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو  جب  ؁۲۰۰۹ میں دوبارہ اقتدار ملا تو اس نے انتقام کے جذبے سے جماعت اسلامی اور  بی این پی کوظلم و جور کا نشانہ بنانا شروع کیا ۔ اول توجماعت کے۸۰۰ سے زائد افراد گرفتار کئے گئے۔ قائدین کی نقل و حرکت اوربیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی۔ فروری ؁۲۰۱۰ سے جلسہ جلوس پر پابندی لگا دی  گئی، اگر کہیں کوشش ہوتی تواسی مقام پر عوامی لیگ جلسہ کرنے کا اعلان کر دیتی اورپولیس نقص امن کے تحت جماعت کے ذمہ داران کو گرفتار  کرلیتی۔  اس کے بعد جماعت کا میڈیا ٹرائیل شروع  ہوا اور تحریک سے وابستہ افراد کو گھروں اور تعلیمی اداروں سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جانے لگا۔ دفاتر کو نذر آتش کئے گئے ۔سیکولرزم کا پر فریب لبادے کے اندر چھپا خوفناک، مکروہ اور جابرانہ چہرہ بنگلہ دیش میں وہ عیاں ہو گیا مگر انسانی حقوق کی اس پامالی کے خلاف کسی نے صدائے احتجاج نہیں بلند کی ؟  آزادیٴ اظہارِ رائے کی اس حق سلبی پر ساری دنیا کے سیکولر دانشور خاموش تماشائی بنے رہے  بلکہ درپردہ اس کی حمایت کرتے رہے۔
چودھری نثار نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے  کہا کہ  ’’پھانسیوں سے شدید صدمہ ہوا، بڑی تشویش ہے، ؁۱۹۷۱کے معاملات کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھیں تو ہم آہنگی اور خیرسگالی کو فروغ ملے گا۔ مفاہمت کی پالیسی اپنائی جائے۔ متعصب عدالتی کارروائی کیلئے عالمی برادری کا ردعمل دیکھ رہے ہیں۔ ہم تو پاکستانی اور بنگالی بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ یکطرفہ ٹرائل پر عالمی برادری توجہ دے‘‘۔ چودھری نثار کی درد مندانہ اپیل  کا شیخ حسینہ واجد پر اثر کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ  ازسرِ نونفرت کے شعلوں کو دے رہی ہیں ۔ حسینہ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی عوام  کو اس آگ اور خون  کاکیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور خود اسے  بروزِ قیامت اس کی کیا قیمت چکانی پڑے گی؟  چودھری صاحب نے اعتراف کیا کہ ’’… افسوس کہ ہم ان لوگوں کیلئے کچھ نہ کر سکے جنہوں نے ۴۵ سال پہلے پاکستان کے ساتھ وفاداری نبھائی‘‘
پاکستان کے ساتھ وفاداری کےنام  پر سیکولر قوم پرست عوامی لیگ جوچا ہے بہتان تراشے  مگر  امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مولانا مطیع الرحمن نظامی (جو پانچ بار مسلسل قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں سابقہ وزیر اور ۲۵  کتب کے مصنف ہیں) کا اس بابت بے لاگ  موقف یہ ہے کہ” کہ ۱۶دسمبر ؁۱۹۷۱کے بعدسے پاکستان علیحدہ ملک ہے اور بنگلہ دیش علیحدہ۔ جب یہ پاکستان تھا تو ہم اس کے وفادار تھے، اب ہماری ساری وفاداریاں بنگلہ دیش کے ساتھ ہیں‘‘۔ کیا کسی فرد یا جماعت کو اپنے ملک سے وفاداری کی سزا دینا درست ہے ؟ پابند سلاسل حوصلہ مند مطیع الرحمن نظامی نے اربابِ اقتدار کو آگاہ کیا تھا کہ ”اگر ملک قوم کی بہی خواہ  جمہوریت نواز اور امن پسندمذہبی جماعتوں کا راستہ روکا گیا تو نتیجتاً ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی۔“
اپنے حالیہ دورِ اقتدار میں ڈیڑھ سال تک ظلم و جور کا سلسلہ دراز رکھنے کے باوجود حسینہ واجد کو لاحق خوف ختم نہیں ہوا بلکہ اقتدار کی ہوس میں اس نے ۲۹جون ؁۲۰۱۰ کو ۷۰ سالہ امیر جماعت مطیع الرحمن نظامی سمیت سیکریٹری جنرل مولانا دلاورحسین اور مولانا علی احسن مجاہد کوگرفتار کر وادیا۔ ۳۰ جون کوان کی ضمانت ہوگئی، مگر حکومت نے مزید ۵مقدمات میں انہیں دوبارہ گرفتار کرکےان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک شروع کردیا۔ ان مقدمات میں ایک نام نہاد بین الاقوامی تعزیزی عدالت کے اندر ؁۱۹۷۱ کے جنگی جرائم کا مقدمہ بھی شامل تھا ۔ یہ عدالت ابھی تک ۱۷ مقدمات کا فیصلہ سنا چکی ہے جس ۱۳ لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔ ان معتوبین میں ۱۰ جماعت کے اہم رہنما ہیں جن میں سے ایک   مولاناعبدالقاد ملا کو؁۲۰۱۳ کے اواخر نیز قمرالزماں اور علی احسن مجاہد کو اس سال شہید کردیاگیالیکن اگر شیخ حسینہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے دس کے دس مجاہدین اسلام کو شہید کرکے بھی وہ  اسلام کا چراغ حریت بجھا دیں گی تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی  ہے۔آزادی کے یہ متوالے محض زبانی جمع خرچ پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے حریت فکر وعمل  کی شمع کو روشن رکھتے ہیں بقول شاعر ؎
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے یا   تخت   جگہ آزادی  کی یا  تختہ  مقام  آزادی   کا
عوامی لیگ نے گزشتہ دو سالوں کے اندر اپنا حلقہ جبر وسیع کرتےہوئے اس بار جماعت کے علاوہ بی این پی کے بھی ایک رہنما کو تختۂ دار پر سربلند کردیا۔  صلاح الدین قدیر چودھری کا تعلق چٹا گانگ کے روزآنہ گاوں سے ہے۔ ان کے والد فضل  القادر چودھری بنگلہ دیش کے قیام سے قبل   نہ صرف پاکستانی قومی اسمبلی کے اسپیکر بلکہ کئی مرتبہ قائم مقام صدر بھی رہ چکے ہیں۔ چودھری کے خاندانی مراسم  نہ صرف خالدہ ضیاء بلکہ حسینہ واجد کے خاندان سے بھی ہیں۔ ان کا ایک عم زاد بھائی صابر حسین عوامی لیگ کا رکن پارلیمان ہے  اور دوسراسلمان رحمٰن ایک سرکاری کارپوریشن کا چئیر مین بھی ہے۔ وہ خود  ؁۱۹۹۷ میں وہ پہلی مرتبہ منتخب ہو کر ایوانِ پارلیمان میں پہنچے اور اس کے بعد لگاتار ۶ مرتبہ انہوں نے انتخابی کامیابی درج کرائی  ۔ خالدہ ضیاء کے دور ِ اقتدار میں وہ پارلیمانی امور کے مشیرِ خاص تھے۔ ان پر ٹاٹا گروپ کی ۳ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگا ہے اور ان کی سزاکے پسِ پشت کارفرما عوامل میں اس کو بھی شمار کیا جاتا ہے ۔
بنگلہ دیش کاقیام نظریاتی طور پر لادین، ترقی پسندانہ، قوم پرست اصولوں پر کیا گیا۔ ؁۱۹۷۲ میں کےدستور میں مذہب کی بنیاد پر سیاست پر پابندی لگا دی گئی اور سیکولرازم کو بنیادی ضابطہ قرار دے کر تمام مذہبی جماعتوں کو ممنوع قراردے دیا گیا۔ اس کے باوجود شیخ مجیب الرحمن نے اعلانیہ کہاتھا کہ ”ان کو مسلمان ہونے پر فخر ہے اور ان کی قوم دنیا کی دوسری بڑی مسلم قوم ہے“۔عوامی لیگ نے مدارس کی امداد کے بجٹ کو، جو ؁۱۹۷۲ میں ۵ء۲ملین ٹکا تھا، ؁۱۹۷۳ تک ۲ء۷ ملین ٹکا کردیا۔ سرکاری میڈیا میں اسلام کے علاوہ ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت کو بھی اپنا نقطہٴ نظر بتانے کا موقع دیا گیا، جو مذہبیت کے فروغ کا باعث بنا لیکن ان کی بیٹی نے شیخ مجیب الرحمٰن کی اس حکمت عملی کو تبدیل کرکے رکھ دیا ۔
گزشتہ دنوں میری ملاقات ایک بنگلہ دیشی مزدور سے ہوئی جو سڑک کے کنارےکھڑا کسی سواری کا انتظار کررہا تھا ۔ اس کو اپنی گاڑی میں بٹھانے کے بعد میں نے دریافت کیا تمہارے بنگلہ دیش میں فی الحال کیا چل رہا ہے؟ اس کم تعلیم یافتہ شخص نے دو جملوں میں  اس فرق کو واضح کرتے ہوئے حقیقت بیان کردی ۔ اس نے کہا حسینہ واجد چاہتی ہیں کہ لوگ صرف نماز روزہ اور تسبیح و تحلیل میں لگے رہیں ۔ اسلام کو عملی زندگی میں لانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں۔ اس لئے جو لوگ اسلامی نظام حیات  کی بات  کرتے ہیں وہ انہیں پھانسی پر لٹکا دیتی  ہے۔  یہ آسان سی بات جو اس مزدور کی سمجھ میں تو آگئی ان دانشوروں کی سمجھ میں نہیں آتی جو دن رات عدم رواداری کا رونا روتے رہتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے پروفیسر کالبرگی کو یاد کرتے ہیں ۔ ہندوستان کے صحافی دو حصوں میں تقسیم ہیں ۔ ایک تو سیکولر لوگ جواپنی اسلام دشمنی کے سبب اس طرح کے واقعات سے دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں مگر اپنی منافقت کو چھپانے کی خاطر اس کا اظہار کرنے سے گریز کرتے ہیں  ۔ دوسرے ہندو احیاء پرست وہ اس لئے بھی خاموش ہیں کہ حسینہ واجد کی حکومت ان کی ہمنوا ہے۔ یہی وجہ ہے اس ظلم  عظیم کو ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے پوری طرح نظر انداز کردیا ۔
دو سال قبل جب علی احسن مجاہد نے عدالت میں یہ فیصلہ سنا تو انہوں نے کٹہرے میں کھڑے ہو کر جج سے  کہا جنگ آزادی کے دوران  میں فرید پور میں تھا ہی نہیں (تو اس قتل غارتگری میں کیسے ملوث ہوتا جس کا  جھوٹاالزام مجھ پر لگایا جارہا ہے)۔   میرا جرم تو صرف یہ ہے کہ میں نے اسلامی تحریک سے وابستہ ہوں  ۔  انہوں نے قرآن مجید کے سورۃ البروج کی آیت بھی تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے: ’’اور اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے‘‘۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے اس پھانسی کوخونِ ناحق قراردیتے ہوئے انصاف کا قتل بتایا۔
تختہ دار کی جانب  خوشی خوشی رواں دواں  علی احسن  مجاہد نےکہا میں  اللہ کے دین کے لیے کئی بار جان قربان کرنے کو تیار ہوں۔ رب کائنات ایسے شہیدوں کا استقبال اس طرح  فرماتا ہے کہ ’’اے نفسِ مطمئن چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو مجھ سے راضی اور میں  تجھ سے راضی  ۔ شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا جنت میں‘‘۔ امیر جماعت اسلامی  (پاکستان) سراج الحق نےاس واقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ’’ان لوگوں نے امام حسینؓ کی یاد تازہ کر دی ہے۔‘‘ اسلام کے لیے موت کو گلے لگانے والے شیوۂ حسینیؓ پر عمل کرتے ہیں۔ یہ جذبۂ شہادت ہے۔ یہ لوگ شہید ہیں اور ان کے بابت حکم ربانی ہے کہ : جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں تم انہیں مردہ نہ کہو۔ وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ ظلم و جبر کے خلاف عدل وقسط کا چراغ جلانے والے علی محمد احسن مجاہد اور صلاح الدین  قدیر چوہدری جیسے آزادی کے متوالوں کوآنس معین تمام عالم پر محیط زندگی کی لکیر قرار دیتا ہے           ؎
زمیں توبس ایک نقشِ پا ہے
اور عالموں پہ محیط ہوں میں
کہ دستِ قدرت میں زندگی کی لکیر ہوں میں

(علی محمد احسن اور قدیر چوہدری  کے خلاف بے بنیاد الزامات کی تفصیل ان شا ء اللہ پھر کبھی)

No comments:

Post a Comment